Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)

قعدہ اولی میں سجدہ سہو کرنے سے نماز کا حکم

Answered by
مولانا محمد آصف عطارمی مدنی
Fatwa no.
4663-WAT
Issued
27 رجب المرجب 1447ھ / 17 جنوری 2026ء

Answer (beginning)

بسم الله الرحمن الرحيم بھول کر قعدہ اولی میں سجدہ سہو کرنے کا حکم دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) سوال کوئی شخص اکیلا چار رکعت نماز پڑھ رہا تھا، اور نماز میں سجدہ سہو لازم تھا، اور اس نے قعدہ اولی کو قعدہ اخیرہ سمجھ کر بھولے سے قعدہ اولی میں سجدہ سہو کر لیا، پھر یاد آنے پر دو رکعت مزید پڑھ کر آخر میں دوبارہ سجدہ سہو کر لیا، توکیا پہلے سجدہ سہو کی وجہ سے نماز میں کوئی خرابی تو نہیں آئی ؟ یعنی اس کو دوبارہ تو نہیں پڑھنا ہو گا ؟ جواب پوچھی گئی صورت میں جب کہ آخر میں سجدہ سہو کر لیا تھا، تو بھولے سے قعدہ اولی میں سجدہ سہو کرنے سے نماز میں کوئی خرابی نہیں آئی ۔

This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.

This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.