Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
رخصتی سے پہلے طلاق ہونے پر عدت کا حکم
- Answered by
- مولانا محمد سعید عطاری مدنی
- Fatwa no.
- 4659-WAT
- Issued
- 03 شعبان المعظم 1447ھ /23جنوری 2026ء
Answer (beginning)
سوال بسم الله الرحمن الرحيم رخصتی سے پہلے طلاق ہو جائے تو عدت کا کیا حکم ہے؟ دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) ایک لڑکی کو رخصتی سے پہلے طلاق ہو گئی ہے، اور آپس میں کسی قسم کی تنہائی نہیں ہوئی، تو اس عورت پر عدت ہوگی یا نہیں ؟ اس حوالے سے رہنمائی فرمائیں۔ جواب اگر واقعی رخصتی و تنہائی سے پہلے ہی طلاق ہو گئی ہے ، تو اس صورت میں اس پر عدت نہیں ہے ۔ چنانچہ قران کریم فرقان حمید میں ہے ريَايُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِذَا نَكَحْتُمُ الْمُؤْمِنَتِ ثُمَّ طَلَّقْتُمُوهُنَّ مِنْ قَبْلِ أَنْ تَمَسُّوهُنَّ فَمَا لَكُمْ عَلَيْهِنَّ مِنْ عِدَّةٍ تَعْتَدُّوْنَهَا ) ترجمه کنز الایمان : اسے ایمان والو! جب تم…
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.