Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
کیا ایک ہی بکری کا دودھ پینے سے رضاعت ثابت ہوجاتی ہے؟
- Answered by
- مولانا محمد انس رضا عطاری مدنی
- Fatwa no.
- 4657-WAT
- Issued
- 02 شعبان المعظم 1447ء / 22 جنوری 2026 ء
Answer (beginning)
سوال بسم الله الرحمن الرحيم ایک ہی بکری کا دودھ پینے سے رضاعی رشتہ ثابت ہوتا ہے یا نہیں ؟ دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) اگر ایک لڑکا اور لڑکی ایام رضاعت میں ایک بکری کا دودھ پی لیں، تو ان کے درمیان حرمت رضاعت ثابت ہوگی یا نہیں ؟ جواب حرمت رضاعت عورت کا دودھ پینے سے ہوتی ہے ، بکری یا کسی اور جانور کا دودھ پینے سے نہیں ہوتی ۔ ہدایہ میں ہے "وإذا شرب صبيان من لبن شاة لم يتعلق به التحريم لأنه لا جزئية بين الأدمى والبهائم والحرمة باعتبارها ترجمہ : اور جب دو بچوں نے ایک بکری کا دودھ پی لیا تو اس سے حرمت متعلق نہیں ہوگی، کیونکہ آدمی اور چوپائے کے درمیان جزئیت نہیں ، اور حرمت اس کے اعتبار سے ہوتی…
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.