Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
نامعلوم ولدیت والے بچے کی دستاویزات کیسے بنے گی؟
- Answered by
- مولانا محمد سجاد عطاری مدنی
- Fatwa no.
- 4654-WAT
Answer (beginning)
سوال بسم الله الرحمن الرحيم جس کا باپ معلوم نہیں ، اس کی ڈاکومنٹس وغیرہ میں کس کی طرف نسبت کریں گے ؟ دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) جس کے باپ کے متعلق کوئی علم نہ ہو، جب کوئی اسے گود لے لے، توڈا کو منٹنس وغیرہ میں اس کی نسبت کس کی طرف کرے ، کیونکہ یتیم خانے وغیرہ سے لیتے ہیں تو اس کا باپ معلوم ہی نہیں ہوتا ؟ جواب اگر کوئی ایسے بچے کو گود لے ، جس کے والد کا علم نہ ہو تو، گود لینے والا عام بول چال میں یا کا غذات وغیرہ میں اس کے حقیقی باپ کے طور پر اپنا نام استعمال نہیں کرسکتا، بلکہ کاغذات وغیرہ میں سر پرست کے کالم میں اپنا نام لکھے ، حقیقی والد کے کالم میں ہر گز نہ لکھے ، اگر جان بوجھ کر خود…
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.