Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)

گھر میں دفن کرنے کی وصیت کا شرعی حکم

Answered by
مولانا محمد سعید عطاری مدنی
Fatwa no.
4645-WAT
Issued
20 رجب المرجب 1447ھ /10 جنوری 2026ء

Answer (beginning)

سوال بسم الله الرحمن الرحيم اپنے گھر میں دفن کرنے کی وصیت کا حکم دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) کسی کا یہ وصیت کرنا کہ مجھے میرے گھر میں دفن کیا جائے ، تو اس وصیت کو پورا کرنے یا نہ کرنے کا کیا حکم ہے؟ جواب یہ وصیت ہی باطل ہے ، اس پر عمل نہیں کیا جائے گا، کیونکہ عام میت کی قبر گھر میں نہیں بلکہ عام مسلمانوں کے قبرستان میں ہی بنانے کا حکم ہے ۔ الجوھرۃ النیرۃ میں ہے " وإن أوصى بأن يحمل بعد موته إلى موضع كذا فهو باطل ترجمہ : اگر وصیت کی کہ اس کی موت کے بعد اسے فلاں مقام پر دفن کیا جائے تو یہ وصیت باطل ہے ۔

This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.

This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.