Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
دوسرے کے نام پر فری میڈیکل سہولت لینا کیسا؟
- Answered by
- مولانا محمد سعید عطاری مدنی
- Fatwa no.
- 4641-WAT
- Issued
- 25 رجب المرجب 1447ھ / 15 جنوری 2026ء
Answer (beginning)
سوال بسم الله الرحمن الرحيم کسی دوسرے کے نام پر میڈیکل کی فرمی سہولت حاصل کرنے کا حکم دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) اگر ایک بھائی کو میڈیکل فری کی سہولت حاصل ہو اور اس کے نام پر دوسرا بھائی اپنا چیک اپ کروائے یا دوائیاں لے لے ، تو ایسا کرنا کیسا ہے ؟ اس کا شرعی حکم بیان فرما دیں ۔ جواب دوسرے بھائی کے نام پر چیک اپ کروانا یا دوائیاں لینا صریحاً جھوٹ اور دھوکہ دہی ہے ، جو کہ سخت ناجائز و گناہ ہے ، اگر ماضی میں ایسا کیا جا چکا ہے ، تو اس پر اللہ سے توبہ کریں، اور جس قدر مالی نقصان ادارے کو پہنچایا ہے ( یعنی جتنی رقم کا علاج کروایا یا دوائیاں لیں)، اس کی تلافی بھی کریں کہ وہ رقم ادارے کو کسی…
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.