Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
احرام میں جرم کا صدقہ کس کو دیا جائے؟
- Fatwa no.
- 4639-WAT
- Issued
- 23 رجب المرجب 1447ھ / 13 جنوری 2026ء
Answer (beginning)
سوال بسم الله الرحمن الرحيم احرام میں جرم کی وجہ سے صدقہ لازم ہو تو کس کو دینا ہو گا ؟ دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) احرام میں جرم کی وجہ سے صدقہ لازم ہو تو کس کو دینا ہو گا؟ جواب احرام میں کسی حکم کی خلاف ورزی کی وجہ سے جو صدقہ لازم ہوتا ہے ، اس صدقے کا مصرف شرعی فقیر ہے ، لہذا نشر عی فقیر کو اس کا مالک بنایا جائے گا ، اور یہ حرم میں دینا افضل ہے ، اس کے علاوہ کسی اور مقام پر مثلا اپنے شہر وغیرہ میں دینا بھی جائز ہے ۔ تنویر الابصار مع در مختار ورد المحتار میں ہے ( وما بين القوسين زيادة من رد المحتار) " تصدق بنصف صاع من بركالفطرة۔۔۔
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.