Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
ساحر نام کا مطلب نیز یہ نام رکھنا کیسا؟
- Answered by
- مولانا محمد سجاد عطاری مدنی
- Fatwa no.
- 4637-WAT
- Issued
- 23 رجب المرجب 1447ھ / 13 جنوری 2026ء علم الافتاء اهلسنت
Question
کیا بچے کا نام ساحر “ رکھ سکتے ہیں ؟ جواب
Answer (beginning)
سوال کیا بچے کا نام ساحر “ رکھ سکتے ہیں ؟ جواب بسم الله الرحمن الرحيم ساحر نام رکھنا دار الافتاء المسنت (دعوت اسلامی) اردو لغات میں ساحر " کا عام طور پر معنی "جادو کرنے والا، جادوگر وغیرہ لکھا ہے ، اس اعتبار سے یہ نام رکھنا درست نہیں ہے ۔ بہتر یہی ہے کہ بچے کا نام انبیائے کرام علیھم الصلوۃ والسلام ، صحابہ کرام و اولیائے عظام علیھم الرضوان میں سے کسی کے نام پر رکھا جائے کہ حدیث پاک میں اچھوں کے نام پر نام رکھنے کی ترغیب ارشاد فرمائی گئی ہے، نیز امید ہے کہ اس سے ان بزرگ ہستیوں کی برکت بھی بچے کے شامل حال ہوگی ۔ فیروز اللغات میں ہے "ساحر : جادوگر ۔ جادو کرنے والا ۔
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.