Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
ماں باپ کی زندگی کی قسم کھانے کا حکم
- Answered by
- مولانا محمد سعید عطاری مدنی
- Fatwa no.
- 4631-WAT
- Issued
- 22 رجب المرجب 1447ھ /12جنوری2026ء
Answer (beginning)
بسم الله الرحمن الرحيم ماں باپ کی زندگی کی قسم کھانے کے متعلق دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) تفصیل سوال کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلہ میں کہ کوئی اپنے ماں باپ کی زندگی کی قسم کھائے اور وہ قسم ٹوٹ جائے تو کیا کفارہ ہو گا؟ جواب ماں باپ کی زندگی کی قسم ، شرعی قسم نہیں ہے، لہذا اگر یہ ٹوٹ جائے ، تو اس پر کوئی کفارہ بھی لازم نہیں ہوگا، اور ایسی قسم کھانی بھی نہیں چاہیے ۔ بدائع الصنائع میں ہے اما اليمين بغير الله وهو اليمين بالآباء والابناء والانبياء والملائكة صلوات الله عليهم والصوم والصلاة وسائر الشرائع والكعبة والحرم وزمزم والقبر والمنبر ونحو ذلك، ولا يجوز الحلف بشيء من ذلك لما ذكرنا۔۔۔
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.