Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)

محمد نام والے کو بلاتے ہوئے درود پڑھنا اور انگوٹھے چومنا

Answered by
مولانا محمد حسان عطارمی مدنی
Fatwa no.
4625-WAT
Issued
19 رجب المرجب 1447ھ /09جنوری2026ء

Answer (beginning)

سوال بسم الله الرحمن الرحيم محمد نامی نامی شخص کو بلاتے ہوئے درود پڑھنا اور انگوٹھے چومنا دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) کسی بندے کا نام محمد ہو ، تو کیا اس کا نام لیتے وقت درود پڑھنا اور انگوٹھے چومنا ہوں گے ؟ جواب کسی شخص ا نام محمد کھا گیا، تواس کا نام لیتے وقت نہ درود پاک پڑھا جائے گا، اور نہ انگوٹھے چومے جائیں گے ، کیونکہ یہاں لفظ محد سے حضور سید عالم صلی اللہ تعالی علیہ و آلہ وسلم کی ذات اقدس مراد نہیں ہوتی، بلکہ جس شخص کا نام رکھا ہوتا ہے ، وہ شخص مراد ہوتا ہے ، جبکہ انگوٹھے حضور علیہ و علی آلہ الصلوۃ والسلام کے نام مبارک کے احترام میں چومے جاتے ہیں ۔

This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.

This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.