Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)

کیا کسی کافر کی موت کی دعا کرنا جائز ہے؟

Answered by
مولانا محمد نور المصطفیٰ عطاری مدنی
Fatwa no.
4622-WAT

Question

کیا کسی کافر کی موت کی دعا کر سکتے ہیں ؟ جواب

Answer (beginning)

سوال کیا کسی کافر کی موت کی دعا کر سکتے ہیں ؟ جواب بسم الله الرحمن الرحيم کسی کافر کی موت کی دعا کرنا دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) بے غرض صحیح کسی کے مرنے کی دعانہ کی جائے ۔ ہاں اگر کوئی ایسا کافر ہو کہ جس سے ایمان نہ لانے کا یقین یا ظن غالب ہو ، اور اس کے زندہ رہنے سے دین کا نقصان ہو، یا کوئی ظالم ہے اور اس سے تو بہ اور ترک ظلم کی امید نہ ہو، اور اس کا مرنا لوگوں کے لیے فائدہ مند ہو؛ تو ایسے شخص کی ہلاکت کی دعا کرنا درست ہے ۔ رئیس المتکلمین، حضرت علامہ مولانا مفتی محمد نقی علی خان رحمہ اللہ تعالی علیہ فرماتے ہیں : " بے غرض صحیح شرعی کسی کے مرنے اور خرابی کی دعا نہ مانگے ۔ ۔ ۔

This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.

This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.