Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)

کفار سے نماز روزہ اور دیگر عبادات کا سوال ہوگا؟

Answered by
مولانا محمد فرحان افضل عطاری مدنی
Fatwa no.
4613-WAT
Issued
15 رجب المرجب 1447ھ /05 جنوری 2026ء

Answer (beginning)

سوال بسم الله الرحمن الرحيم کفار سے بھی نماز روزہ وغیرہ کے متعلق سوال ہوگا ؟ دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) کیا آخرت میں کفار سے بھی نماز روزہ وغیرہ کے متعلق سوال ہوگا ؟ جواب جی ہاں ! آخرت میں کفار سے بھی نماز روزہ وغیرہ کے متعلق سوال ہو گا ۔ چنانچہ کفار کے جہنم میں جانے کی وجوہات بیان کرتے ہوئے اللہ پاک ارشاد فرماتا ہے : في جَنْبِ يَتَسَاءَلُونَ (40) عَنِ الْمُجْرِمِينَ (41) مَا سَلَكَكُمْ فِي سَقَرَ (42) قَالُوْا لَمْ نَكُ مِنَ الْمُصَدِّينَ (43) وَلَمْ نَكُ نُطْعِمُ الْمِسْكِينَ (44) وَكُنَّا نَخُوضُ مَعَ الْخَابِضِيْنَ (45) وَكُنَّا نُكَذِبُ بِيَوْمِ الدِّيْنِ (46) حَتَّى أَتْنَا…

This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.

This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.