Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)

پل صراط کے انکار کا حکم

Answered by
مولانا محمد آصف عطاری مدنی
Fatwa no.
4603-WAT
Issued
12 رجب المرجب 1447ھ /02 جنوری 2026ء

Question

پل صراط کا انکار کرنے کا کیا حکم ہے ؟ جواب

Answer (beginning)

سوال پل صراط کا انکار کرنے کا کیا حکم ہے ؟ جواب بسم الله الرحمن الرحيم پل صراط کے انکار کرنے کا شرعی حکم دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) پل صراط حق ہے ، کثیر احادیث صحیحہ میں اس کا ذکر ہے ، اس کا انکار کرنا، گمراہی ہے ۔ المعتقد المنتقد میں ہے الصراط، وهو جسر ممدود على ظهر النار أدق من الشعر و أحد من السيف يرده كل الخلائق۔۔۔۔۔۔ وكثير من المعتزلة ينكرونه وهو ممكن وارد على جهة الصحة في الاخبار الكثيرة فردّه ضلالة ترجمہ : صراط : اور وہ ایک پل ہے جو جہنم کی پشت پر کھینچا ہوا ہے ، جو بال سے بھی زیادہ باریک اور تلوار سے بھی زیادہ تیز ہے ، تمام مخلوق اس پر سے گزرے گی ۔

This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.

This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.