Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
ارساء ایمان نام رکھ سکتے ہیں؟
- Answered by
- مولانا محمد فراز عطاری مدنی
- Fatwa no.
- 4602-WAT
- Issued
- 12 رجب المرجب 1447ھ /02 جنوری 2026ء
Question
ارساء ایمان نام رکھنا کیسا ؟ جواب
Answer (beginning)
سوال ارساء ایمان نام رکھنا کیسا ؟ جواب بسم الله الرحمن الرحيم ارساء ایمان نام رکھنا دار الافتاء المسنت (دعوت اسلامی) ارساء ایمان دو لفظوں کا مجموعہ ہے : ارساء اور ایمان - ارساء کا معنی ہے : ٹھہرنا، ثابت ہونا ، استوار ( یعنی مضبوط) ہونا وغیرہ ۔ تو دونوں لفظوں کا مجموعی معنی ہوگا : " ایمان کا ٹھہرنا، ایمان کا ثابت ہونا، ایمان کا مضبوط ہونا وغیرہ ۔ " ان معانی کے اعتبار سے ارساء ایمان نام رکھنا فی نفسہ جائز و مباح ہے ۔
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.