Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
کیا اپنی نند کو زکوٰۃ دی جا سکتی ہے؟
- Answered by
- ابو حفص مولانا محمد عرفان عطاری مدنی دام الافيا الملت
- Fatwa no.
- 4597-WAT
- Issued
- 11 رجب المرجب 1447ھ /01 جنوری 2026ء
Question
کیا میں اپنی نند کو زکوۃ دے سکتی ہوں ؟ جواب
Answer (beginning)
سوال کیا میں اپنی نند کو زکوۃ دے سکتی ہوں ؟ جواب بسم الله الرحمن الرحيم اپنی نند کو زکوۃ دینے کا حکم دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) اگر آپ کی نند واقعی شرعی فقیر یعنی مستحق زکوۃ ہو اور ساتھ ہی ہاشمی خاندان سے بھی نہ ہوں، تو آپ ان کو زکوۃ دے سکتی ہیں، شرعاً اس کی ممانعت نہیں، کیونکہ زکوۃ اپنے اصول یعنی جن کی اولاد میں زکوۃ دینے والا ہو، جیسے حقیقی ماں ، باپ دادا، دادی ؛ نانا ، نانی ، اور اپنے فروع یعنی جو زکوۃ دینے والے کی اولاد میں ہوں جیسے حقیقی بیٹا، بیٹی، پوتا، پوتی، نواسا، نواسی و غیرہ کو اور شوہر و بیوی کا ایک دوسرے کو دینا جائز نہیں ، ان کے علاوہ دوسرے رشتے داروں کو زکوۃ دی جاسکتی ہے…
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.