Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
جمعہ چھوڑ کر ظہر کی نماز پڑھنا کیسا؟
- Answered by
- مولانا محمد سعید عطاری مدنی
- Fatwa no.
- 4596-WAT
- Issued
- 11 رجب المرجب 1447ھ /01 جنوری 2026ء
Answer (beginning)
سوال بسم الله الرحمن الرحيم جمعہ کی نماز کے بجائے ظہر کی نماز پڑھنا دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلہ میں کہ اگر کسی بندے نے جمعہ کی نماز چھوڑ کر ظہر کی نماز پڑھی، تو کیا اس کی ظہر ہو جائے گی ؟ جواب جس پر جمعہ فرض ہے ، اس کے لیے بلا عذر شرعی جمعہ ہونے سے پہلے نماز ظہر پڑھنا، ناجائز و گناہ ہے ، جس سے توبہ کرنا لازم ہے ، اور جمعہ سے پہلے ظہر پڑھ لی، تو تب بھی جمعہ کے لیے جانا فرض ہے، اور ظہر پڑھ لینے کے بعد جس وقت گھر سے جمعہ کی نیت سے نکلا، اگر اس وقت امام نماز میں ہو ، یا ابھی نماز شروع ہی نہیں ہوئی، تو جو پہلے ظہر پڑھی تھی ، وہ جاتی رہی ، جمعہ مل جائے تو…
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.