Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
امامت کا مشاہرہ طے نہ ہو تو ادائیگی کیسے کی جائے؟
- Fatwa no.
- 4589-WAT
- Issued
- 10 رجب المرجب 1447ھ /31 دسمبر 2025ء
Answer (beginning)
سوال بسم الله الرحمن الرحيم امامت کا مشاہرہ طے نہ ہوا ہو ، تو ادائیگی کیسے کی جائے ؟ دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) ایک بھائی کچھ ماہ سے امامت کر رہے ہیں، تقریبا چھ ہفتے قبل جب یہ سلسلہ شروع ہوا، تو صرف یہ طے پایا تھا ، کہ انہیں اجارہ دیا جائے گا، لیکن کوئی مخصوص رقم معین نہیں کی گئی تھی ، اب امام اور کمیٹی نے باہمی رضامندی سے گزشتہ چھ ہفتوں اور آئندہ کے لیے ایک رقم مقرر کی ہے ، سوال یہ ہے کہ کیا گزشتہ چھ ہفتوں کی اجارہ کی رقم وصول کرنا شرعاً درست ہے ؟ جواب شریعتِ مطہرہ کے قوانین کے مطابق کسی کو ملازم رکھنے کی ایک شرط یہ ہے کہ : "کام کی اجرت معلوم اور طے شدہ ہو۔
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.