Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
مدرسے میں کھانا کھلانے سے زکوٰۃ ادا ہوجائیگی؟
- Answered by
- مولانا محمد ابو بکر عطاری مدنی
- Fatwa no.
- 4585-WAT
- Issued
- 08 رجب المرجب 1447ھ /29 دسمبر 2025ء
Answer (beginning)
سوال بسم الله الرحمن الرحيم کیا مدرسے میں کھانا کھلانے سے زکوۃ ادا ہو جائے گی ؟ دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) ہمارا ہوٹل ہے جہاں سے روزانہ 50 لڑکوں کے لیے سالن مدرسے میں جاتا ہے ، ہم یہ سالن فی سبیل اللہ بھیجتے ہیں ، ہم پوچھنا یہ چاہتے ہیں کہ کیا ہم یہ زکوۃ میں شمار کر سکتے ہیں ؟ جواب اولاً یہ بات ذہن نشین فرمالیں کہ زکوۃ کی ادائیگی کے لیے تملیک فقیر یعنی مستحق زکوۃ شرعی فقیر کو مال زکوۃ کا مالک بنانا ضروری ہے ، اس کے بغیر زکوۃ ادا نہیں ہوتی ، اور دریافت کی گئی صورت میں بظاہر یہی ہوتا ہے کہ اس میں طلبہ کو کھانے کا مالک نہیں بنا یا جاتا، بلکہ کھانا ان کے لیے مباح کیا جاتا ہے کہ جو کھانا…
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.