Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
حیا البریۃ نام رکھنا کیسا نیز اسکا مطلب؟
- Answered by
- مولانا محمد انس رضا عطاری مدنی
- Fatwa no.
- 4579-WAT
- Issued
- 05 رجب المرجب 1447ھ / 26 دسمبر 2025ء
Question
کیا "حیا البریۃ" نام رکھ سکتے ہیں ؟ جواب
Answer (beginning)
سوال کیا "حیا البریۃ" نام رکھ سکتے ہیں ؟ جواب بسم الله الرحمن الرحيم حیا البریۃ نام رکھنا دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) یہ نام رکھ سکتے ہیں ، اس کا مطلب ہے : "مخلوق کی شرم و حیا وغیرہ ۔ البتہ بہتر یہ ہے کہ نیکوں کے ناموں میں سے کوئی نام رکھ لیں، کہ حدیث پاک میں نیکوں کے نام پر نام رکھنے کی ترغیب ارشاد فرمائی گئی ہے ۔ نیز امید ہے کہ اس سے ان نیک ہستیوں کی برکت بچے کے شامل حال ہوگی۔ القاموس الوحید میں ہے "الحیاء : شرم و حیا، وقار و سنجیدگی ۔
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.