Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
غصہ کرنے کا حکم
- Fatwa no.
- 4575-WAT
- Issued
- 06 رجب المرجب 1447ھ /27دسمبر 2025ء
Question
اسلام میں غصے کا کیا حکم ہے؟ جواب
Answer (beginning)
سوال اسلام میں غصے کا کیا حکم ہے؟ جواب بسم الله الرحمن الرحيم اسلام میں غصے کا حکم دار الافتاء المسنت (دعوت اسلامی) پہلے یہ جان لیں کہ غصہ کسے کہتے ہیں، غصہ ایک نفسیاتی کیفیت کا نام ہے ، یہ انسانی فطرت کا حصہ ہے ، اس وجہ سے ہر شخص کے اندر اس فطرت کا وجود ہے ، اور مشاہدہ میں بھی آتا ہے ۔ عوام میں یہ غلط مشہور ہے کہ "خُضہ مطلقا حرام ہے کیونکہ حصہ ایک غیر اختیاری آمر ہے ، انسان کو آہی جاتا ہے ، اِس میں اس کا قصور نہیں، ہاں غحصہ کا بے جا استعمال بڑا، اور کئی گناہوں کا سبب ہے ۔
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.