Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)

کیا مضارب مال مضاربت کی کوئی چیز خرید سکتا ہے؟

Answered by
مولانا محمد فراز عطاری مدنی
Fatwa no.
4571-WAT
Issued
03 رجب المرجب 1447ھ /24 دسمبر 2025ء دار الافتاء اهاست

Question

مضارب کا مال مضاربت کی کوئی چیز اپنے لیے خریدنا دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) مضارب نے 50 ہزار کا ایک لیپ ٹاپ خریدا، لیکن وہ آگے سیل (Sale) نہیں ہو سکا، کیا مضارب وہ لیپ ٹاپ 55 ہزار میں خرید سکتا ہے ، جبکہ مضاربت کی مدت جاری ہے ؟ جواب

Answer (beginning)

مضارب کے لیے مال مضاربت سے خریدا ہوا لیپ ٹاپ خود کو ہی فروخت کرنا درست نہیں ہے کہ ایک ہی شخص کا بیک وقت فروخت کرنے والا اور خریدنے والا، دونوں بننا ، لازم آتا ہے ، جو کہ درست نہیں ۔ المبسوط للسرخسی میں ہے "وإذا اشترى المضارب بمال المضاربة جارية ثم أشهد بعد ذلك أنه اشتراها لنفسه شراء مستقلا بمثل ذلك المال أو بربح، وكان رب المال أذن له أن يعمل فيه برأيه، أو لم يأذن فإن شراءه لنفسه باطل، ولا ينبغي له أن يطأها وهي على المضاربة على حالها؛ لأنه يشتري من نفسه لنفسه وأحد لا يملك ذلك غير الأب في حق ولده الصغير“ ترجمہ : اور جب مضارب، مالِ مضاربت سے کوئی لونڈی خرید ے ، پھر اس کے بعد اس پر گواہ بنائے کہ…

This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.

This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.