Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
گائے کے دودھ مکھن کے استعمال اور گوشت سے پرہیز سے متعلق حدیث
- Fatwa no.
- 4569-WAT
- Issued
- 02 رجب المرجب 1447ھ /23 دسمبر 2025ء
Question
گائے کا دودھ و مکھن استعمال کرنے اور گوشت سے بچنے کے متعلق حدیث کا حوالہ دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) ایک پوسٹ دیکھی ، جس میں یہ حدیث پاک لکھی تھی کہ "عليكم بالبان البقر، فانها دواء، واسمانها فانها شفاء، واياكم ولحومها فان لحومهاداء" یعنی گائے کے دودھ کولازم پکڑو کہ یہ دوا ہے اور اس کے گھی کو لازم پکڑو کہ اس میں شفا ہے ، اور اس کے گوشت سے بچو کہ یہ بیماری ہے " ۔ کیا یہ حدیث درست ہے ؟ جواب
Answer (beginning)
جی ہاں ! پوسٹ میں لکھی گئی حدیث پاک درست ہے، الفاظ کی کچھ تبدیلی کے ساتھ اسی مفہوم پر مشتمل حدیث امام ابو عبد الله محمد بن عبد اللہ حاکم نیشاپوری رحمہ اللہ نے اپنی کتاب "المستدرک علی الصحیحین میں روایت کی ہے ۔ اور اس کی تشریح یو بیان کی گئی ہے کہ : گائے کے گوشت کو بیماری قرار دینے کی وجہ حجاز کی خشکی ہے ، اس علاقے کی خشکی کی وجہ سے گوشت میں بھی خشکی پائی جاتی تھی، جبکہ دھ اور گھی کو دوا اور شفا قرار دینے کی وجہ یہ ہے کہ دودھ وگھی میں رطوبت پائی جاتی تھی ۔ ( یعنی یہ بات خاص طور پر اسی طرح کے علاقے کے حالات کے لیے بیان کی گئی ہے ، اور یہ مطلقاً ہر جگہ کے لیے نہیں فرمایا گیا ۔
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.