Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)

بغیر آواز اور بدبو کے گیس خارج ہونے سے وضو کا حکم

Question

بغیر آواز اور بد بو کے ریح خارج ہو تو وضو کا حکم دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) وضو کرنے کے بعد گیس خارج ہو جائے ، جس کی نہ آواز ہونہ کوئی بد بو، توکیا وضو ٹوٹ جائے گا؟ جواب

Answer (beginning)

وضو ٹوٹنے میں اصل اعتبار اس چیز کا ہے کہ وضو توڑنے والی چیز کے پائے جانے کا یقین ہو جائے ، کیونکہ وضو کا ہونا یقینی ہے ، تواب اس کو توڑنے کے لیے بھی، توڑنے والی چیز کے پائے جانے کا یقین ہونا ضروری ہے ، ایسا یقین کہ کسی قسم کا شک و شبہ نہ رہے ، یہاں تک کہ اگر قسم کھانا چاہے ، تو بلا جھجک قسم کھا سکے ، اور اگر قسم کھانے میں پہنچائے ، تو اس کا مطلب ہے کہ یقین نہیں ہوا، بلکہ معاملہ مشکوک ہے ، لہذا وضو نہیں ٹوٹا ، اسی کو حدیث پاک میں کچھ اس انداز سے بیان فرمایا گیا کہ : جب تم میں سے کسی کو اپنے پیٹ میں کوئی چیز محسوس ہو اور اسے یہ شک ہو کہ اس سے کچھ خارج ہوا ہے یا نہیں، تو وہ مسجد سے اس وقت تک نہ…

This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.

This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.