Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
ایلیا نام رکھنا کیسا؟
- Answered by
- مولانا محمد سعید عطاری مدنی
- Fatwa no.
- 4567-WAT
- Issued
- 28 جمادی الاولیٰ 1447ھ /20 دسمبر 2025ء دار الافتاء اهاست
Question
ایلیا نام رکھنا کیسا ؟ جواب ایلیا نام رکھنے کا حکم دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)
Answer (beginning)
یہ نام رکھنا جائز ہے، بلکہ یہ ایک اچھا اور بابرکت نام ہے ۔ یہ نام حضرت الیاس علی نبینا وعلیہ الصلاۃ والسلام (جو بنی اسرائیل کے جلیل القدر پیغمبر ہیں) کے نام کا عبرانی تلفظ بھی سمجھا جاتا ہے ۔ ایک قول کے مطابق حضرت خضر علی نبینا وعلیہ الصلوۃ والسلام کا بھی نام ہے۔ بعض کتب کے مطابق حضرت علی رضی اللہ عنہ کا بھی نام ہے۔ یہ بیت المقدس کا قدیم نام بھی رہا ہے ۔ حدیث پاک میں ہمیں اچھوں کے نام پر نام رکھنے کی ترغیب دلائی گئی ہے ۔ الفردوس بماثور الخطاب میں ہے : ”تسموا بخیارکم“ ترجمہ : اچھوں کے نام پر نام رکھو۔
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.