Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
جس کے ہاتھ پاؤں نہ ہوں اس کے لیے وضو اور نماز کے احکام
Question
جس شخص کے ہاتھ پاؤں نہ ہوں وہ نماز کیسے ادا کرے ؟ دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) جس شخص کے دونوں ہاتھ گٹوں تک اور دونوں پاؤں ٹخنوں تک کئے ہوئے ہوں، اور کوئی وضو یا تیم کروانے والا موجود نہ ہو، تو وہ نماز کیسے ادا کرے گا ؟ جواب
Answer (beginning)
جس کے دونوں ہاتھ گٹوں تک اور دونوں پاؤں ٹخنوں تک کئے ہوئے ہوں، اور کوئی بیٹا ، پوتا، نوکر وغیرہ اس کے پاس نہ ہو، جس پر اس کی اطاعت لازم ہو ، اور کوئی دوسرا مفت وضو کرانے پر تیار نہیں ، بلکہ اجرت مانتا ہے ، لیکن اس کے پاس دینے کو رقم نہیں، یافی الحال پاس موجود نہیں ، اور وہ ادھار پر راضی نہیں ، یا پاس موجود ہے مگر وہ اجرت مثل سے بہت زیادہ مانگتا ہے ، یا نہ مفت کروانے والا کوئی ہے ، اور نہ اجرت پر کروانے والا، تو ایسی صورت میں اگر اس کے قریب ایسا پانی ہے ، کہ جس میں اعضائے وضوڈ بو کر وہ خود وضو کر سکتا ہے ، مثلا حقیقتی جاری پانی ہے ، یا حکمی جاری ، جیسے وہ دردہ حوض والا پانی، یا مختلف بر تنوں…
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.