Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
اللہ تعالی کو روح پھونکنے والا کہنا
- Answered by
- مولانا محمد ابو بکر عطارمی مدنی
- Fatwa no.
- 4562-WAT
Question
اللہ تعالی کی طرف روح پھونکنے کے الفاظ کی نسبت کا حکم دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) اللہ تعالیٰ نے حضرت آدم علیہ الصلاۃ و السلام کا پہلے جسم بنایا، پھر اس میں روح ڈالی ، لیکن اگر کوئی یوں کہے کہ اللہ تعالیٰ نے اس میں روح پھونکی تو کیا حکم ہے ؟ جواب
Answer (beginning)
اللہ تعالی کی طرف روح پھونکنے کی نسبت کرنے میں بھی مراد روح ڈالنا، جاری کرنا ، ہی ہوتا ہے ، لہذا اس طرح کا جملہ بولنے میں حرج نہیں ہے کہ یہ قرآن وحدیث سے ثابت ہے ۔ قرآن پاک میں ارشاد خداوندی ہے : (فَإِذَا سَوَّيْتُهُ وَنَفَخْتُ فِيْهِ مِنْ رُّوحِي فَقَعُوا لَهُ سَجِدِينَ (.)) ترجمہ کنز الایمان : پھر جب میں اسے ٹھیک بنالوں اور اس میں اپنی طرف کی روح پھونکوں تو تم اس کے لیے سجدے میں گرنا ۔ (سورہ ص ، پارہ 23 ، آیت 72) تفسیر جلالین میں اس کے معنی کو یوں بیان کیا گیا ہے " { ونفخت} أجريت فيه من روحي "ترجمہ : اور اس میں اپنی طرف کی روح پھونکوں یعنی روح ڈال دوں ، جاری کر دوں ۔
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.