Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
رسول اللہ ﷺ کو خیر الامم کہنا
- Answered by
- مولانا محمد سعید عطاری مدنی
- Fatwa no.
- 4561-WAT
- Issued
- 1 0 رجب المرجب 1447ھ /22دسمبر 2025ء
Question
حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے لیے خیر الامم کا لفظ استعمال کرنے کا حکم دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) میرا سوال یہ ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے لیے خیر الامم کا لفظ استعمال کرنا کیسا ؟ جواب
Answer (beginning)
حضور نبی کریم صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم کے صدقے یہ لقب "خیر الامم ( تمام امتوں میں سب سے بہترین) خودامتِ محمدیہ (مسلمانوں) کو ملا ہے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے لئے لفظ "خیر الامم " استعمال کرنا جائز ہے اور آپ کے حق میں یہ لفظ "خیر الانام ( مخلوقات میں سب سے بہترین) کے مرادف ہے ۔ فتاوی تاج الشریعہ میں ہے : خیر الامم امت محمدیہ علی نبیہا التحیة والسلام کا لقب ہے اور یہ فضیلت ہمیں حضور پر نور خیر البشر سید الا نام کے وسیلہ سے ملی کہ ہم خیر الامم ہوئے یعنی سب امتوں سے بہتر تو حضور بدرجہ اولیٰ اس لقب کے مصداق ہیں کہ تمام اولین و آخرین سے افضل ہیں اور خیر الامم کا اطلاق جس طرح امت پر…
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.