Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
عقیقے کا گوشت کچا بھی تقسیم کر سکتے ہیں؟
- Fatwa no.
- 4550-WAT
- Issued
- 25 جمادی الثانی 1447ھ / 17 دسمبر 2025ء
Question
عقیقے کا گوشت پکا کر کھلایا جائے یا کچا بھی تقسیم کر سکتے ہیں ؟ دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) کیا بچوں کے عقیقے کا گوشت پکا کر ہی تقسیم کرناضروری ہے، یا کچا بھی تقسیم کر سکتے ہیں؟ جواب
Answer (beginning)
؟ شریعت کی رو سے عقیقے کے گوشت کو کچا تقسیم کرنا او پکا کر تقسیم کرنا، دونوں صورتیں جائز ہیں، البتہ اپکا کر کھانا، چھا تقسیم کرنے سے افضل ہے ۔ نیز یہ یادر ہے کہ اقربانی کے گوشت کی طرح عقیقے کے گوشت کے بھی تین حصے کرنا مستحب ہے ، ایک حصہ اپنے لیے ، ایک حصہ اپنے عزیز و اقارب کے لیے ، اور ایک حصہ فقراء و مساکین کے لیے ۔ امام اہلِ سنت ، امام احمد رضا خان رحمتہ اللہ تعالی عنہ لکھتے ہیں : " ( عقیقے کا) گوشت بھی مثل قربانی تین حصے کرنا مستحب ہے ، ایک اپنا، ایک اقارب، ایک مساکین کا ۔ اور چاہے تو سب کھالے ، خواہ سب بانٹ دے، جیسے قربانی ۔ اور پکا کر کھلانا کا تقسیم کرنے سے افضل ہے ۔
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.