Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)

ٹک ٹاک پر تصویر کے ساتھ گانا لگانا کیسا؟

Question

اپنی تصویر پر گانے لگا کر ٹک ٹاک پر اپلوڈ کرنے کا حکم دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) اپنی تصویروں پر گانا گانا کیسا؟ اور اسے ٹک ٹاک پر اپلوڈ کرنا کیسا؟ مردو عورت دونوں کے لیے ؟ جواب

Answer (beginning)

اپنی تصویروں پر گا نالگا کر اسے سننا سنانا، اور اسے ٹک ٹاک و غیرہ پر اپلوڈ کرنا، ناجائز و حرام اور جہنم میں لے جانے والا کام ہے ، چاہے مرد ایسا کرے یا عورت۔ اور یہ گناہ جاریہ ہے کہ جتنے لوگ ٹک ٹاک پر ، وہ گانا سنیں گے ، ان سننے والوں کو تو اس کا گناہ ملے گا، لیکن ان کے ساتھ ساتھ اس اپلوڈ کرنے والے کو بھی ان کی تعداد برابر گناہ ملے گا، اور جب تک لوگ اسے سنتے رہیں گے ، اسے گناہ ملتا رہے گا۔ اور اگر عورت اپنی بے پر وہ تصویر پر گا نالگا کر اسے ٹک ٹاک وغیرہ اپلوڈ کرے ، تو اس کے لیے ڈبل گناہ جاریہ ہے کہ ایک موسیقی کا اور دوسرا اپنی بے پر دہ تصویر سوشل میڈیا پر اپلوڈ کرنے کا ۔

This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.

This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.