Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)

بچے کا عقیقہ کرنے سے والدین کا عقیقہ ادا ہو جاتا ہے؟

Fatwa no.
4541-WAT
Issued
23 جمادی الثانی 1447ھ /15 دسمبر 2025ء

Question

کیا بچے کا عقیقہ والدین کی طرف سے کفایت کرے گا؟ دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) بچے کا عقیقہ کیا تو کیا اس میں والدین کا عقیقہ بھی ہو جاتا ہے ؟ جواب

Answer (beginning)

بچے کا عقیقہ کرنے سے والدین کا عقیقہ ادا نہیں ہوتا، کیونکہ عقیقہ ہر شخص کی طرف سے الگ الگ ہوتا ہے ، جیسے قربانی ہے کہ ہر ایک کی طرف سے علیحدہ علیحدہ کی جائے گی ، ایک کی قربانی سے دوسرے کی قربانی ادا نہیں ہوگی۔ امام اہل سنت ، امام احمد رضا خان علیہ الرحمہ فرماتے ہیں : عقیقہ کے احکام مثل اضحیہ ہیں ۔ اس سے بھی مثل اضحیہ تقرب الی اللہ عز وجل مقصود ہوتا ہے ۔ “(فتاوی رضویہ ، جلد 20، صفحہ 501، رضا فاؤنڈیشن ، لاہور) مزید فرماتے ہیں : ایک قربانی نہ سب کی طرف سے ہو سکتی ہے ، نہ سوا مالک نصاب کے کسی اور پر واجب ہے ، اگر اس کی بالغ اولاد میں کوئی خود صاحب نصاب ہو ، تو وہ اپنی قربانی جدا کرے ۔

This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.

This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.