Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)

مدیحہ نام رکھنا اور اس کا مطلب؟

Answered by
مولانا عبدالرب شاکر عطاری مدنی
Fatwa no.
4534-WAT
Issued
20 جمادی الثانی 1447ء 12 دسمبر 2025 دار الافتاء اهلسنت

Question

مدیحہ نام رکھنے کا حکم دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) بچی کا نام مدیحہ رکھنا کیسا ہے ؟ اور ہمارے گھر کی خواتین کا سر نیم (sur name) سلطانہ ہے، نوکیا میکہ سلطانہ نام رکھ سکتے ہیں ؟ جواب

Answer (beginning)

مدیحہ کا مطلب ہے : " تعریف ۔ توصیف ۔ " اور سلطانہ کا معنی ہے "ملکہ " ، لہذا مدیحہ نام رکھ سکتے ہیں اور اس کے ساتھ سر نیم (Sur name) سلطانہ بھی لگایا جاسکتا ہے ، شرعاً اس میں کوئی حرج نہیں۔ البتہ ! بہتر یہ ہے کہ بچی کا نام نیک خواتین مثلاً امہات المؤمنین، صحابیات رضی اللہ تعالی عنھن و دیگر نیک خواتین میں سے کسی کے نام پر رکھا جائے کہ حدیث پاک میں اچھوں کے نام پر نام رکھنے کی ترغیب ارشاد فرمائی گئی ہے ۔ نیز امید ہے کہ اس سے ان بزرگ ہستیوں کی برکت بھی بچی کے شامل حال ہوگی ۔ فیروز اللغات میں ہے مدیح (مدیحہ ) : تعریف - توصیف ۔ ثنا ۔

This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.

This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.