Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)

کسی کو آدھا مسلمان اور آدھا کافر کہنا کیسا؟

Question

کسی کو یوں کہنے کا حکم : تو آدھا مسلمان اور آدھا کافر ہے دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) اگر کوئی کسی کو یہ کہے کہ : " تو آدھا مسلمان اور آدھا کا فر ہے"، تو کہنے والے پر کیا حکم ہوگا ؟ جواب

Answer (beginning)

عام طور پر اس طرح کا جملہ کہنے والے کا مقصد کسی کو واقعی کافر سمجھنا نہیں ہوتا، بلکہ صرف یہ کہنا مقصود ہوتا ہے کہ وہ شخص کچھ معاملات میں کافروں جیسی عادتیں، طور طریقے اور انداز اختیار کر بیٹھا ہے ۔ لہذا اگر کوئی شخص مذاق میں یوں کسی مسلمان کو آدھا کافر کہہ دے ، اور دل میں یہ یقین نہ رکھے کہ وہ واقعی کا فر ہے ، تو اس پر کفر کا حکم نہیں ہوگا، لیکن کسی مسلمان کو ایسا جملہ کہنے کی اجازت نہیں ہے ۔

This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.

This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.