Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)

والدہ کا بیٹی کو دیا ہوا تحفہ واپس لینا کیسا؟

Answered by
مولانا محمد ابو بکر عطاری مدنی
Fatwa no.
4526-WAT
Issued
18 جمادی الاخریٰ 1447ھ / 10 دسمبر 2025ء

Question

میں نے اپنی بیٹیوں کو پانچ پانچ لاکھ روپے دیے ہیں، تو کیا میں یہ رقم واپس لے سکتی ہوں ؟ راہنمائی فرما دیں ۔ جواب

Answer (beginning)

مکمل اگر ہبہ کامل ہو چکا ہے، مثلا اگر بچیاں نا بالغ تھیں اور ان کا کوئی ولی نہیں تھا ، تو آپ کی طرف سے فقط الفاظ ہبہ پائے جانے سے ہبہ ہو گیا ، یا بچیاں نابالغ تھیں اور ان کا ولی موجود تھا، تو اب اس کا کامل قبضہ ہو گیا ، یا بچیاں اگر چہ نا بالغ تھیں لیکن سمجھدار تھیں ، اور ان بچیوں کو کامل قبضہ دے دیا تھا، تو ان صورتوں میں آپ بلا وجہ شرعی اس رقم کو واپس نہیں لے سکتی ہیں، کہ ذی رحم محرم ہونا بھی رجوع سے مانع ہے ۔

This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.

This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.