Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
محمد وِداد نام رکھنا کیسا نیز اسکا مطلب؟
- Answered by
- مولانا محمد انس رضا عطاری مدنی
- Fatwa no.
- 4524-WAT
- Issued
- 18 جمادی الاخریٰ 1447ھ / 10 دسمبر 2025ء
Question
محمد و داد نام رکھنا کیسا ؟ جواب بچے کا نام محمد و داد رکھنا دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)
Answer (beginning)
محمد و داد نام رکھنا جائز ہے ۔ وداد کا معنی ہے : "الفت و محبت ، دوستی وغیرہ ۔ البتہ بہتر یہ ہے کہ اولا بیٹے کا نام صرف "محمد" رکھیں کیونکہ حدیث پاک میں نام محمد رکھنے کی فضیلت اور ترغیب ارشاد فرمائی گئی ہے اور ظاہر یہ ہے کہ یہ فضیلت تنہا نام محمد رکھنے کی ہے ۔ اور پھر پکارنے کے لیے انبیائے کرام علیہم الصلوة والسلام یا صحابہ کرام علیہم الرضوان یا اولیاء وصالحین میں سے کسی کے نام پر نام رکھ لیجیے کہ حدیث پاک میں نیکوں کے نام پر نام رکھنے کی ترغیب ارشاد فرمائی گئی ہے اور امید ہے کہ اس سے ان کی برکت بچے کے شامل حال ہوگی۔
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.