Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)

دیوالی یا ہولی پر ملنے والا بونس لینا کیسا؟

Fatwa no.
4523-WAT
Issued
18 جمادی الاخریٰ 1447ھ /10 دسمبر 2025ء

Question

غیر مسلموں کے تہوار کے موقع پر ملازم کو ملنے والے بونس کا حکم دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین اس مسئلے کے بارے میں کہ ہولی ، دیوالی و غیرہ کے موقع پر ہندووں کی کمپنیاں بونس دیتی ہیں ، کیا ایسے بونس کی رقم مسلمان استعمال کر سکتے ہیں ؟ جواب

Answer (beginning)

صورت مسئولہ میں مسلمان اس رقم کو استعمال کر سکتے ہیں، کہ یہ بغیر دھوکہ دئیے ، اس کی رضامندی سے مل رہا ہے ۔ فتح القدیر میں علامہ ابن ہمام علیہ الرحمہ لکھتے ہیں : ” وانما يحرم على المسلم اذا كان بطريق الغدر (فاذالم يأخذ غدرا فبأي طريق يأخذه حل) بعد کونه برضا ترجمہ : مسلمان پر حربی کافر کا مال صرف اسی صورت میں حرام ہے جب دھو کے کے طور پر ہو ، پس جب دھوکے سے نہ لے تو جس طریقے سے بھی لے گا حلال ہوگا، جبکہ اس کی رضا مندی سے لیا ہو ۔

This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.

This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.