Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)

نماز میں منہ سے استغفر اللّٰہ نکل گیا تو نماز ہوجائیگی؟

Answered by
مولانا محمد سعید عطاری مدنی
Fatwa no.
4522-WAT
Issued
17 جمادی الاخریٰ 1447ھ/09 دسمبر 2025ء

Question

نماز میں منہ سے استغفر اللہ نکل جائے تو کیا حکم ہے؟ دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) نماز میں ڈکار آئی اور منہ سے "استغفر الله "انکل گیا تو نماز کا کیا حکم ہوگا؟ جواب

Answer (beginning)

نماز میں ڈکار آنے پر اگر منہ سے "استغفر الله "انکل جائے، تو نماز نہیں ٹوٹتی۔ کیونکہ "استغفر الله " دعا اور ذکر کے کلمات میں سے ہے ، اور نماز کے دوران دعا یا ذکر کے الفاظ اگر کسی کے جواب کے طور پر نہ کہے ہوں، تو ان سے نماز نہیں ٹوٹتی ، جیسے اگر نمازی کو چھینک آئے اور وہ الحمد للہ کہہ دے ، تو اس سے اس کی نماز نہیں ٹوٹتی۔ ذکر اللہ بطورِ خطاب نہ ہو، تو اس سے نماز فاسد نہیں ہوتی، چنانچہ رد التمار اور البحر الرائق میں ہے (واللفظ للآخر) لو قال العاطس لنفسه يرحمك الله يا نفسي لا تفسد لأنه لما لم يكن خطابالغيره لم يعتبر من كلام الناس كما إذا قال يرحمني الله، وقيد بقوله يرحمك الله لأنه لوقال العاطس أو…

This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.

This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.