Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)

اللّٰہ تعالیٰ کو غصہ آجائے گا کہنا کیسا؟

Fatwa no.
4521-WAT
Issued
17 جمادی الاخرى 1447ھ/09دسمبر 2025ء

Question

اللہ تعالی کے لئے لفظ غصہ استعمال کرنے کا حکم اللہ تعالی کو غصہ آجائے گا، یوں کہنا کیسا ؟ جواب دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)

Answer (beginning)

لفظ "غصہ" کے اصل معنی ”اچھو“ کے ہیں ، یعنی کھانے کا گلے میں پھنسنا، اس سے استعارہ کر کے ایسے غضب پر اس کا اطلاق ہوتا ہے ، جسے آدمی کسی خوف یا لحاظ سے ظاہر نہ کر سکے ، گویا دل کا جوش گلے میں پھنس کر رہ گیا ، اور یہ معنی ہر گز اللہ تعالی کے لائق نہیں، لہذا یہ لفظ اللہ تعالی کے لیے استعمال نہ کیا جائے ، اس کی جگہ لفظ "غضب " استعمال کیا جائے ۔ فتاوی رضویہ میں ہے اصل معنی لفظ اور محاورات عرفیہ دونوں کے لحاظ سے ہر مقام پر اس (احتیاط) کا کمال پاس رہے ۔ مثلاً (غَيْرِ الْمَغْضُوبِ عَلَيْهِمْ) کا یہ ترجمہ کہ جن پر غصہ ہوا، یا تو نے غصہ کیا، فقیر کو سخت ناگوار ہے ۔

This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.

This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.