Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)

حضرت آدم اور دیگر انبیاء کا قبلہ کیا تھا؟

Answered by
مولانا محمد ابو بکر عطاری مدنی
Fatwa no.
4520-WAT
Issued
17 جمادی الاخریٰ 1447ھ/09دسمبر 2025ء

Question

حضرت آدم اور دوسرے انبیائے کرام علیہم الصلوۃ والسلام کا قبلہ دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) حضرت آدم اور ان کے بعد والے انبیاء کرام علیہم الصلوۃ والسلام کا کون سا قبلہ تھا ؟ جواب

Answer (beginning)

حضرت آدم علیہ الصلوۃ والسلام سے لے کر حضرت موسی علیہ الصلوۃ والسلام تک کعبہ ہی قبلہ رہا، پھر حضرت موسیٰ علیہ الصلوۃ والسلام سے لے کر حضرت عیسیٰ علیہ الصلوۃ والسلام تک بیت المقدس قبلہ رہا اور مسلمان بھی مدینہ منورہ میں آنے کے بعد تقریباً سولہ ، سترہ ماہ تک بیت المقدس کی طرف منہ کر کے نماز پڑھتے رہے اور اس کے بعد نماز ظہر کی ادائیگی کے دوران مسجد قبلتین میں قبلہ کی تبدیلی کا واقعہ ہوا۔

This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.

This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.