Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
وتر میں دعائے قنوت سے پہلے بسم اللہ پڑھنا کیسا؟
- Answered by
- مولانا اعظم عطاری مدنی
- Fatwa no.
- 4516-WAT
- Issued
- 14 جمادی الثانی 1447ھ / 06 دسمبر 2025ء
Question
وتر میں دعائے قنوت سے پہلے
Answer (beginning)
اگر کسی نے وتر میں دعائے قنوت سے پہلے بسم اللہ شریف پڑھ لی، تو اس کی نماز ہو جائے گی، کیونکہ بسم اللہ شریف اللہ پاک کی ثنا پر مشتمل ہے اور ہر شنا دعا ہے ، نیز عموما کسی کام کے شروع میں برکت کے لیے پڑھی جاتی ہے ۔ رو التمار میں ہے " كقوله بسم الله لافتتاح العمل تبرکا ترجمہ : جیسا کہ اس کسی کام کو شروع کرنے کے لیے اس کا تبر کا بسم اللہ کہنا ۔ (ردالمختار مع الدر المختار، جلد 1، صفحہ 347، مطبوعہ: کوئٹ) فتاوی رضویہ میں امام اہل سنت سے ایک شخص کے متعلق سوال ہوا جو نماز وتر کی تیسری رکعت میں بعد الحمد وقل کے تکبیر کہہ کر دعائے قوت کے بدلے میں تین بار قل ھو اللہ شریف پڑھ لیتا ہے ، تو آپ علیہ الرحمہ نے…
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.