Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
مسلمان اور کافر کو ایک ساتھ سلام کرنا کیسا؟
- Answered by
- مولانا محمد سعید عطاری مدنی
- Fatwa no.
- 4514-WAT
- Issued
- 16 جمادی الاخریٰ 1447ھ/08 دسمبر 2025ء
Question
مسلمان اور کافر ایک ساتھ جمع ہوں تو انہیں سلام کرنے کا حکم دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلہ میں کہ میں بیرون ملک دبئی میں رہتا ہوں، میرے ساتھ دفتر میں غیر مسلم بھی کام کرتے ہیں، میری عادت ہے کہ میں صبح آکر سب کو سلام کرتا ہوں، چاہے وہ مسلمان ہوں یا غیر مسلم ، اور وہ میرے سلام کا جواب بھی دیتے ہیں، تو کیا میرا اُن پر اس طرح پہلے سلام کرنا جائز ہے ؟ جواب
Answer (beginning)
غیر مسلموں کو "السلام علیکم " کے الفاظ کے ساتھ سلام میں پہل نہیں کر سکتے ۔ اگر آپ دفتر میں داخل ہوں اور وہاں مسلمانوں اور غیر مسلموں کا ملا جلا گروپ بیٹھا ہو، تو ایسی صورت میں آپ "السلام علیکم کہہ سکتے ہیں، لیکن نیست یہ رکھیں کہ : آپ کا سلام صرف مسلمانوں کے لیے ہے ۔ "آپ کو چاہیے کہ اپنی عادت میں تبدیلی لائیں ، جب آپ دفتر جائیں تو مسلمانوں کو " السلام علیکم " کہیں ، اور غیر مسلموں کو گڈمارنگ یا "ہیلو " کہ کر مخاطب کریں ۔ "السلام علیکم میں پہل صرف مسلمانوں کے لیے خاص رکھیں ۔
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.