Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)

کیا پیشاب کی جگہ صرف ہوا سے خشک ہو کر پاک ہو جاتی ہے؟

Answered by
مولانا محمد شفیق عطاری مدنی
Fatwa no.
4513-WAT
Issued
16 جمادی الاخریٰ 1447ھ / 08 دسمبر 2025ء

Question

کیا پیشاب والی جگہ صرف ہوا سے خشک ہونے سے پاک ہو جائے گی ؟ دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) اگر پیشاب کرنے کے بعد کوئی شخص پانی وغیرہ کسی چیز سے طہارت حاصل نہ کرے ، بلکہ صرف پیشاب کی جگہ کو بغیر کسی چیز کے چھوٹے ، ہوا سے خشک ہونے دے، تو کیا ایسی صورت میں شرعی طور پر پاکیزگی حاصل ہو جائے گی ؟ جواب

Answer (beginning)

پیشاب کی جگہ کو صرف ہوا سے خشک ہونے دینا کافی نہیں، بلکہ صورت مسئولہ میں شرعاً طہارت حاصل کرنے کا طریقہ یہ ہے کہ اس مقام کو پانی وغیرہ سے دھویا جائے یا بے قیمت بیکار پاک چیز که رطوبت کو جذب کر کے، نجاست والے مقام کو صاف کر دے ، ڈھیلا ہو یا پتھر ، مٹی ہو یا پرانا کپڑا وغیرہ ، اس کے ساتھ پونچھ کر اچھی طرح صاف کر لیا جائے ۔ خشک منی کے علاوہ کوئی بھی نجاست کپڑوں یا بدن پر لگ جائے ، تو اُسے دھو کر ہی پاک کیا جائے گا، چنانچہ البحر الرائق میں ہے ”وفي البدائع: وأما سائر النجاسات إذا أصابت الثوب أو البدن ونحوهما فإنها لا تزول إلا بالغسل سواء كانت رطبة أويابسة و سواء كانت سائلة أولها جرم “ ترجمہ :…

This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.

This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.