Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
مزار پر بچے کے بال کاٹنے کی منت کرنا کیسا؟
- Fatwa no.
- 4501-WAT
- Issued
- 12 جمادی الاخریٰ 1447ھ /04 دسمبر 2025ء
Question
کسی مزار پر جا کر بچے کے بال اتروانے کی منت کا حکم دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) ایک عورت نے یوں منت مانی تھی کہ اپنے بچے کی ولادت کے بعد پہلے بال اجمیر شریف جا کر اترواؤں گی ، اب کیا وہیں جا کر بال اتروانے پڑیں گے ، یا پھر اپنے گاؤں میں بھی اتروا سکتے ہیں ؟ جواب
Answer (beginning)
کسی مزار پر جا کر بال اتروانا ایک فضول عمل ہے اور اس کی منت باطل ہے ، لہذا بچے کے بال اس کے گاؤں میں ہی اتروائے جائیں، اور یہ بھی یادر ہے کہ ! عورت کو تو عام مزارات پر جانا ویسے ہی ممنوع ہے ، تو اس فضول عمل کے لیے جانا بدرجہ اولی ممنوع ہو گا۔ نذر شرعی کی شرائط کے متعلق فتاوی ہندیہ میں ہے "الأصل أن النذر لا يصح إلا بشروط (أحدها ) أن يكون الواجب من جنسه شرعا فلذلك لم يصح النذر بعيادة المريض (والثاني) أن يكون مقصود الا وسيلة فلم يصح النذر بالوضوء وسجدة التلاوة“ ترجمہ : شرعی اصول یہ ہے کہ منت چند شرائط سے درست ہوتی ہے ایک یہ ہے کہ اس کی جنس سے کوئی شرعی واجب موجود ہو، اسی لئے مریض کی عیادت کرنے…
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.