Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
منت کے نوافل دوسروں سے پڑھوانا کیسا؟
- Answered by
- مولانا محمد نور المصطفیٰ عطاری مدنی :
- Fatwa no.
- 4499-WAT
- Issued
- 12 جمادی الاخریٰ 1447ھ /04 دسمبر 2025ء
Question
منت کے نوافل دوسروں سے پڑھوانے کا حکم دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) اگر کوئی شخص کہتا ہے کہ اگر میرا فلاں کام ہو جائے گا تو پچاس نفل پڑھوں گا ، تو وہ نفل کسی اور سے بھی پڑھوا سکتا ہے ؟ یا اسے خود ہی پڑھنے پڑیں گے ؟ جواب
Answer (beginning)
اس طرح کے الفاظ کہنا کہ : اگر میرا فلاں کام ہو جائے گا تو پچاس نفل پڑھوں گا یہ نفل نماز پڑھنے کو ایسی شرط پر معلق کرنا ہے ، جس کے ہونے کی خواہش رکھتا ہے ، اور نفل نماز وغیرہ (جس کی منت شرعا درست ہو جاتی ہے ، اس) کو ایسی شرط پر معلق کرنے سے خاص اسی کام کو کرنا واجب ولازم ہو جاتا ہے ، اور نفل نماز خالص بدنی عبادت ہے ، جو کسی اور سے نہیں کروائی جا سکتی، لہذا صورت مسئولہ میں اس طرح نوافل کی منت ماننے نوافل لازم ہو چکے ہیں، اور یہ نوافل منت ماننے والے کو ہی ادا کرنا پڑیں گے ، کسی اور سے نہیں پڑھوا سکتا ۔
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.