Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
امیہ نام رکھنا کیسا ؟
- Answered by
- مولانا محمد نور المصطفی عطاری مدنی
- Fatwa no.
- 4503-WAT
- Issued
- 13 جمادی الثانی 1447هـ / 05 دسمبر 2025 دار الافتاء اهاست
Question
لڑکی کا نام اُمیہ رکھنا کیسا ہے ؟ جواب بچی کا نام امیہ رکھنا دار الافتاء اهلسنت (دعوت اسلامی)
Answer (beginning)
لڑکی کا نام امیہ رکھنا، نہ صرف جائز بلکہ بہتر ہے ، کہ یہ کئی صحابیات کا نام ہے ، اور اچھوں کے نام پر نام رکھنے کی حدیث پاک میں ترغیب دلائی گئی ہے ، نیز امید ہے کہ ان بزرگ ہستیوں کی برکت بھی بچی کے شامل حال ہوگی ۔ الاصابة في تمييز الصحابہ میں امیہ نام کی متعدد صحابیات کا تذکرہ موجود ہے ، جن میں سے چند یہاں مذکور ہیں : امية بنت قيس الخزرجية۔۔۔ امية بنت ابی الصلت الغفارية۔۔۔
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.