Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)

جمعہ کے خطبے میں آیت رہ جانے کا حکم

Answered by
مولانا محمد سعید عطاری مدنی
Fatwa no.
4495-WAT
Issued
11 جمادی الاخریٰ 1447ھ / 03 دسمبر 2025ء

Question

جمعہ کے خطبہ کے ایک حصے میں کچھ آیتیں پڑھنا رہ جائیں تو کیا حکم ہے؟ دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) جمعہ کے خطبہ میں امام نے پہلے والا حصہ خطبہ میں صحیح پڑھا، جب دوسراحصہ پڑھا، تو اس میں کچھ آیتیں رہ گئیں، تو کیا حکم ہے؟ جواب

Answer (beginning)

خطبہ ذکر الہی کا نام ہے ، اس میں جب ایک بار الْحَمْدُ لِله یاسُبحن اللہ وغیرہ کے الفاظ کہے جائیں تو اس سے فرض ادا ہو جاتا ہے ، اگرچہ صرف اتنے پر اکتفا مکروہ ہے ، لہذا جب امام صاحب نے ذکر الہی کرلیا تو خطبہ کا فرض تو ادا ہو گیا، لیکن یا درہے کہ اخطبے میں کچھ چیزیں سنت بھی ہیں، (جن کا نیچے بہار شریعت کے حوالے سے بیان آرہا ہے) جن میں سے یہ بھی ہے کہ خطبہ میں کم سے کم ایک آیت تلاوت کرنا سنت ہے، لہذا اگر بقیہ سنتوں کے ساتھ کم از کم ایک آیت تلاوت کرلی، تو مزید آیتیں تلاوت نہ کرنے سے کوئی مسئلہ نہیں ہوا، اور اگر ایک بھی آیت تلاوت نہیں کی تھی، تو امام صاحب کا ایسا کرنا مکروہ تھا لیکن ضروری خطبہ ہو…

This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.

This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.