Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
تمیم نام کا مطلب نیز یہ نام رکھنا کیسا؟
- Answered by
- ابو حفص مولانا محمد عرفان عطاری مدنی
- Fatwa no.
- 4494-WAT
- Issued
- 09 جمادی الاخریٰ 1447ھ /01 دسمبر 2025ء دار الافتاء اهلسنت
Question
بچے کا نام تقسیم رکھتا دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) میرے گھر بیٹا پیدا ہوا ہے ، میں اس کا نام " تمیم " رکھنا چاہتا ہوں، تو مجھے یہ بتائیں کہ "تقسیم " کا معنی کیا ہے ؟ اور کیا میں اپنے بیٹے کا یہ نام رکھ سکتا ہوں ؟ جواب
Answer (beginning)
لفظ " تمیم " کا معنی ہے : مضبوط ۔ پورے قدوقامت والا ۔ لہذا آپ اپنے بچے کا یہ نام رکھ سکتے ہیں، بلکہ یہ نام رکھنا مستحب ہے کیونکہ تمیم کثیر صحابہ کرام رضی اللہ تعالی عنہم کا نام ہے مثلاً حضرت تمیم بن اوس، حضرت تمیم بن اسید و غیر ہما؛ اور احادیث طیبہ میں ہمیں اچھے اور نیک لوگوں کے ناموں پر نام رکھنے کی ترغیب دلائی گئی ہے ، نیز امید ہے کہ نیک لوگوں کی برکتیں بچے کے شامل حال ہوں گی۔ المسجد میں ہے " التمیم : مضبوط ۔ پورے قدوقامت والا ۔ “ (المسجد ، صفحہ 89، مطبوعہ : لاہور) الفردوس بماثور الخطاب میں ہے "تسموا بخیار کم “ ترجمہ : اپنے اچھوں کے نام پر نام رکھو ۔
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.