Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)

اعتکاف کی نیت کے بغیر مسجد میں کھانا پینا

Answered by
مولانا محمد فراز عطاری مدنی
Fatwa no.
4487-WAT
Issued
06 جمادی الثانی 1447ھ / 28 نومبر 2025. عام الاف الاهليت

Question

مسجد میں بغیر اعتکاف کی نیت کے کھانے پینے کا حکم مسجد میں بغیر اعتکاف کی نیت کے کھانا پینا کیسا؟ جواب دار الافتاء اهلسنت (دعوت اسلامی)

Answer (beginning)

مسجد میں بغیر اعتکاف کی نیت کے کھانا چنا جائز نہیں ہے ، اگر کسی نے ایسا کیا، تو وہ تو بہ کرے اور آئندہ ہر گز ایسا نہ کرے کہ معتکف علاوہ کسی دوسرے کے لیے مسجد میں کھانا پینا، سونا وغیرہ جائز نہیں ہے ، لہذا اگر مسجد میں کھانے پینے کی ضرورت پڑہی جائے ، تو اولا اعتکاف کی نیت کرے، پھر کچھ ذکر و اذکار کرے یا نماز پڑھے ، اور پھر مسجد کے احترام کا لحاظ رکھتے ہوئے ، کھائے ، پیسے اور مسجد اور اس کی اشیا کو آلودہ ہونے سے بچائے ۔

This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.

This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.