Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
محمد ماجد نام رکھنا کیسا؟
- Answered by
- مولانا محمد فراز عطاری مدنی
- Fatwa no.
- 4482-WAT
- Issued
- 05 جمادی الثانی 1447ھ 271 نومبر 2025ء
Question
محمد ماجد نام رکھنا کیسا ہے ؟ جواب محمد ماجد نام رکھنے کا حکم دار الافتاء اهلسنت (دعوت اسلامی)
Answer (beginning)
بچے کا نام "محمد ماجد" رکھنا شرعاً جائز ہے "ماجد" کا معنی ہے : "بزرگی والا" ۔ یہ اگر چہ اللہ پاک کے صفاتی ناموں میں سے ہے ، مگریہ اسمائے مشترکہ یعنی ان ناموں میں سے ہے کہ ، جن کا مخلوق پر بھی اطلاق جائز ہے ، لہذا یہ نام رکھنے میں کوئی حرج نہیں اور اس سے کے ساتھ لفظ محمد لگانے میں بھی حرج نہیں ۔ لفظ "ماجد" کے معنی کے متعلق المسجد میں ہے "المساجد : بزرگی والا (المنجد، صفحہ 826 ، خزینہ علم وادب، لاہور) اسماء الحسنی کے متعلق حضرت ابوھریرہ رضی اللہ تعالی عنہ سے مروی حدیث پاک میں اللہ تبارک و تعالی کا ایک نام "الماجد (یعنی : بزرگی والا) “ بھی مذکور ہے ۔
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.