Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)

آن لائن اکیڈمی کا پیڈ لنک شیئر کرنا کیسا؟

Answered by
مولانا احمد سلیم عطاری مدنی
Fatwa no.
4476-WAT
Issued
04 جمادی الاخریٰ 1447ھ / 26 نومبر 2025ء علم الافتاء اهلسنت

Question

آن لائن اکیڈمی کا پیڈ ورژن داخلہ لنک ، بغیر اجازت دوستوں میں شیئر کرنا دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) مجھے یہ پوچھنا ہے کہ آج کل جو آن لائن اکیڈمیاں چل رہی ہیں، ان میں طریقہ کار یہ ہوتا ہے کہ : جب ہم انہیں فیس ادا کرتے ہیں، تو وہ ہمیں ایک لنک اور اس کا پاس ورڈ بھیجتے ہیں ، جس کے ذریعے ہماری کلاس ہوتی ہے ، اس میں اکثر لڑکے ایسا کرتے ہیں کہ ، وہ بغیر اجازت لیے اپنے دوستوں کو بھی وہ لنک اور پاس ورڈ مفت میں دے دیتے ہیں، اس سے یہ ہوتا ہے کہ استاد کے پاس فیس دے کر پڑھنے والے طلبا کم ہو جاتے ہیں، جس سے استاد کا نقصان ہوتا ہے ۔ تو کیا یہ عمل درست ہے ؟ جواب

Answer (beginning)

پوچھی گئی صورت میں اگر آن لائن اکیڈمی کی طرف سے صرف اس اکیڈمی میں فیس دے کر پڑھنے والوں کو لنک اور اس کا پاس ورڈ دیا جاتا ہے، کسی اور کو بغیر فیس دیئے پڑھنے کی اجازت نہیں ہوتی، تو پھر فیس دینے والے طلبا کا ( فیس نہ دینے والے) کسی اور سٹوڈنٹ کو، اکیڈمی والے سے اجازت لیے بغیر یہ لنک اور پاس ورڈ شیئر کرنا شرعا درست نہیں کہ یہ دھوکہ و خیانت ہے اور یہ دونوں کام ناجائز و حرام ہیں ، اسی طرح جو لوگ اکیڈمی والوں کی اجازت کے بغیر ، مفت پڑھتے ہیں، ان کا مفت پڑھنا بھی جائز نہیں ۔ نبی پاک صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : " من غش فليس منا " ترجمہ : جو دھوکہ دہی کرے ، وہ ہم میں سے نہیں ۔

This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.

This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.