Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)

ناپاک بستر پر سونا جائز ہے؟

Answered by
مولانا محمد انس رضا عطاری مدنی
Fatwa no.
4474-WAT كان الامية الملاك
Issued
02 جمادی الثانی 1447ء 24 نومبر 2025. Dar-ul-IftaAhlesunnat (Dawat-e-Islami)

Question

نا پاک بستر پر سونے کا حکم دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) ایک بندے کو رات کو احتلام ہوا اور منی بستر کو لگ گئی، کیا وہ اس بستر کو پاک کیے بغیر دوبارہ استعمال کر سکتا ہے ؟ اگر استعمال کرے تو کیا گناہ گار ہو گا ؟ جواب

Answer (beginning)

اگر نجاست ایسی تازہ ہے کہ بستر استعمال کرنے سے نجاست چھوٹ کر پاک چیز کو بھی نا پاک کرے گی، تو یہ شرعا درست نہیں ، اگر اس طرح استعمال کیا کہ اس کی وجہ سے بلاوجہ پاک کپڑا، ناپاک ہوا، تو یہ جائز نہیں تھا، اس سے توبہ کی جائے ، اور اگر اس پر لگی نجاست خشک ہو چکی ، کہ چھوٹ کر پاک چیز کو ناپاک نہیں کرے گی ، تو استعمال کرنے میں حرج نہیں ۔ البحر الرائق اور الدر المختار میں ہے (واللفظ للدر) "وله لبس ثوب نجس فی غیر صلوۃ “ یعنی : نماز کے علاوہ میں آدمی ناپاک کپڑا پہن سکتا ۔

This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.

This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.